ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات میں ناکامیوں کے بعد جائزہ لینے میں مصروف سی پی ایم

لوک سبھا انتخابات میں ناکامیوں کے بعد جائزہ لینے میں مصروف سی پی ایم

Tue, 28 May 2019 11:38:34    S.O. News Service

نئی دہلی، 28 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں کراری شکست برداشت کے بعد بائیں بازو پارٹیاں دہلی میں تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔اس انتخاب میں لیفٹ پارٹیاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) مغربی بنگال سے اپنا سوپڑا صاف کروا چکی ہے جبکہ کیرالہ میں وہ محض ایک سیٹ ہی جیت پائی۔تمل ناڈو میں سی پی ایم کو 2 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ہار کی وجوہات کو لے کر سی پی ایم نے دہلی کے پارٹی ہیڈکوارٹر میں 2 دن کی پولٹ بیورو کی میٹنگ بلائی ہے، جہاں ہار کے نتائج پر پارٹی کے بڑے لیڈر غوروفکر کر رہے ہیں۔دو روزہ اجلاس میں کیرل کے وزیر اعلی پنارای وجین، تریپورہ کے سابق وزیراعلیٰ روبی سرکار، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور پارٹی کے سینئر لیڈر پرکاش کرات سمیت تمام ریاستوں کے پولٹ بیورو ممبر شامل ہیں۔لوک سبھا انتخابات میں سوپڑا صاف ہونے کے بعد سی پی ایم کے سامنے اب سیاسی تناظر میں وجود بچانے کا چیلنج ہے اور اس غوروفکر کے ذریعے پارٹی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخر کن وجوہات کے سبب وہ پیچھے چلی گئی۔سی پی ایم میں مسلسل پرکاش کرات اور سیتا رام یچوری کے درمیان اختلافات کی خبریں آتی رہیں۔پولٹ بیورو کی میٹنگ میں اس بات پر بھی نظر ہوگی کہ کیا ایک دھڑا ہار کے لئے دوسرے دھڑے کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔پولٹ بیورو کی میٹنگ میں اس بات پر بھی غور ہو رہا ہے کہ جن ریاستوں میں سی پی ایم نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا اور جن ریاستوں میں اتحاد نہیں کیا، وہاں کون سے فیکٹر پارٹی کے لئے ہار کا سبب بنے۔کیرالہ میں لیفٹ پارٹیوں کی حکومت ہے باوجود اس کے لوک سبھا انتخابات میں وہ ایک سیٹ پر سمٹ گئی جبکہ تمل ناڈو میں ڈراوڈ مننیتر کڑگم (ڈی ایم) کے ساتھ اتحاد کا فائدہ سی پی ایم کو ملا اور انتخابات میں اس کی 2 سیٹیں ملیں۔سی پی ایم کی سب سے بدتر حالت مغربی بنگال میں ہوئی، جہاں وہ 35 سال کی حکمرانی میں رہی لیکن ممتا بنرجی کی طرف سے ریاست میں حکومت بنائے جانے کے بعد مسلسل لیفٹ سمٹتا چلا گیا اور اس لوک سبھا انتخابات میں سی پی ایم بنگال میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی ہے۔


Share: